اگر آپ باربروسہ دیکھ رہے ہیں


 تو ذرہ دلوں کو تھام کے دیکھیے گا، جہاں آنے والی اقساط میں بابا عروج کی لازوال فتوحات دکھائی جائیں گی جسکی وجہ اسے انھیں مسیحاء اندلس اور شیر اندلس جیسے القابات ملیں گے وہیں آگے جا کے ان فتوحات کے بعد ان کی شہادت کا درد ناک منظر بھی دکھایا جائے گا، جو کچھ تاریخ میں ہوا تھا اگر اسے ویسے ہی باربروسہ میں دکھایا گیا تو ہم میں سے کوئی بھی عروج رئیس کی شہادت کا سین دیکھ نہیں پائے گا، 

قبل از شہادت ایک جنگ کے دوران مسلمان عورتوں اور بچوں کو بچاتے ہوئے عروج رئیس کا ایک بازو ان کے جسم سے الگ ہوگیاتھا،

 جب شہید کیا گیا تو ان کے جسم پر تلواروں کے سینکڑوں وار ہوئے، جب دشمن ان کے سینے پر وار کر رہے تھے تب عروج نے اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھائیں، اپنی انگلی فضا میں بلند کی اور مسکرا کر کلمہء شہادت پڑھتے ہوئے شہید ہو گئے،

 دشمن نے محض اس مجا ہد کے قتل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کا سر جسم سے الیحدہ کر کے اسے کیتھو لک یورپ کی گلیوں میں گھماتے رہے، 

جس جگہ سے یہ لوگ گزرتے وہاں کلیساؤں کی گھنٹیاں خوشی سے بج اٹھتی کیونکہ ایک طویل عرصے سے عروج کی دہشت ان کے دلوں پر عفریت کی طرح سوار تھی لیکن ان کی شہادت کا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا کہ


مسلمان ہتھیار ڈال دیتے، 

بابا عروج کے بھائی خضر خیرالدین باربروسہ نے اپنے بھائی کا ایسا زبردست انتقام لیا کہ دشمن آج بھی باربروسہ کا نام سن کر بلبلا اٹھتے ہیں 🔥